خاکہ
کیمیا گر
عامر سُہیل(ایبٹ آباد)
بہت سوچا،ذہن پر بڑا زور مارا،یادوں کا ملبہ اِدھر اُدھر ہٹا کر ڈھونڈنے کی آخری بہترین کوشش کر دیکھی مگر پھر بھی یاد نہ آ سکا کہ احمد حسین مجاہد سے میری پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی تھی!یہ پہلی ملاقات کہیں کھو گئی ہے۔خدایا! اسے کیسے تلاش کروں؟ کرب کی اسی حالت میں ذہن نے حل نکالا کہ ملاقات کی گم شدگی کا اشتہار دیا جائے اور اشتہارکا مضمون اتنا جاندار ہو کہ اگر مجاہد خود پڑھے تو ملاقات کی تلاش میں نکل کھڑا ہو،پھر خیال آیا کہ اس طرح تو یہ اشتہاری ملاقات بن کر رہ جائے گی اور اصل مسئلہ تو یہ سامنے آیا کہ گمشدہ ملاقات کا اشتہارشائع کون کرے گا؟سوالات کا جمِ غفیر اب ٹار نیڈو (Tornedo) کی شکل اختیار کرتاچلا جا رہا تھا اور دماغ کے خلیوں نے بھی آپس میں سرگوشیاں کرنا شروع کر دی تھیں ،یادوں کی طوفانی ہواؤں نے سوچنے کا عمل بُری طرح متاثر کر دیا ۔
اچانک ذہن کے کسی نہاں گوشے میں زیرو واٹ کا نیلا بلب روشن ہو گیا اور یہ نیا سوال اُبھرا کہ آیا احمد حسین مجاہد کے ساتھ میری پہلی ملاقات ہوئی بھی تھی یا نہیں؟مدھم نیلی روشنی میں پیدا ہونے والے اس نومولود سوال نے مجھے یکلخت چونکا دیا اور ذہن پر چھائی تاریکی مزید گہری ہو گئی،میں نے وحشت کے عالم میں سوچنے کا عمل بند کر دیا کیونکہ اعصابی نظام کی تھکاوٹ نے اب میرے ہر سوال کا جواب نئے سوال کی صورت میں ڈھالنے کا بے انت سلسلہ شروع کر دیا تھا۔دن گزرتے گئے،اُلجھن بڑھتی گئی۔پہلی ملاقات بھولے بسرے خواب کی مانند اپنا وجود کھو بیٹھی،صرف ایک خلش یادوں سے چپک کر رہ گئی۔
جب پہلی ملاقات کا روگ ذرا کم ہوا تو دوسری ملاقات کے بارے میں سوچنے لگا،فوراً یاد آ گیا،یہ ملاقات ایبٹ آباد کی کسی ادبی تقریب میں ہوئی تھی۔پھر سلسلہ چل نکلا اور دریائے کنہار کی مانند تاحال رواں دواں ہے۔
احمد حسین مجاہد کا کوائف نامہ یا شناختی حوالہ جات کچھ مختصر معلوم ہوتے ہیں۔محض اتنا کہہ دینا کا فی ہے کہ بالا کوٹ کا رہنے والا، بے بدل شاعر،دوست پرور اور اچھا انسان۔نیز آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵ ء کے بعد بالا کوٹ سے ہجرت اوراب ایبٹ آباد کا مستقل رہائشی و سکونتی۔لوگوں کے نزدیک بڑا آدمی ہے،خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔ویسے عام گفتگو اور بول چال سے بڑا آدمی ہی دکھتا ہے۔بالاکوٹ کی سر زمین غازیوں اور شہیدوں کی وجہ سے خاص شہرت رکھتی ہے مگر مجاہد کی بدولت یہ خطّہ شعرو سخن کی پہچان بھی بن گیا ہے۔اس کی مجاہدانہ زندگی ادبی کارناموں سے لدی پھندی نظر آتی ہے۔ ’’دُھند میں لپٹا جنگل‘‘ اس کی پہلی شعری تصنیف کا نام ہے جسے ادبی حلقوں میں ایسی شان دار پذیرائی نصیب ہوئی کہ ساقی فاروقی جیسے جیدمنہ زور نقاد نے اس کی پوری کتا ب پڑھ ڈالی، اور ساتھ یہ بھی کہا:
’’تمہاری تازگی اور زبان پر کنٹرول نے متاثر کیا۔تم میں ایک اچھے شاعر نے بسیرا کیا ہے، اِس کا خیال رکھنا۔‘‘
مجاہد نے ساقی کی بات ہنس کر ٹال دی اور اپنی ساری توجہ جھیل سیف الملوک کی نثری رومانوی داستان لکھنے پر مرکوز کر دی، لوگوں نے یہ داستان اتنی پسندکی کہ مجاہد لامحالہ نثری قبیلے کا معروف تخلیق کار بن کرسامنے آگیا۔جب مجاہد کی نثر کا جادو سر سے نیچے اُتر کر بولنے لگا تویہ سامری جادو گر مختصر افسانے کو مختصر ترین افسانے بنا کر احمد ندیم قاسمی اور اہلِ فنون کو حیرت زدہ کر نے بیٹھ گیا۔مجاہد کو جب اپنی حیثیتِ عرفی (شہرتِ عام) کا احساس تنگ کرنے لگا تو اس نے صنفِ ماہیا کے اصل اوزان کی تبلیغ شرو ع کر دی، اس طبع زاد کوشش کی بدولت محض ایک ماہ کی قلیل مدت میں بڑے بڑے ماہیا نگار اس کی مخالفت پر اتر آئے، مگر جب ٹھنڈے دماغ سے سوچا تو پھرکھلے دل سے تسلیم کرنا پڑا کہ مجاہد کے تجویز کردہ اوزان میں بڑا وزن ہے۔ اب پاک و ہند میں پیدا ہونے والے ہر نئے ماہیے کو مجاہدی اوزان میں تولا جاتا ہے،اگر وزن پورا نکلے تو اُس کے حلالی ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ یوں یہ ادبی معرکہ بالاکوٹ کے غازی نے سر کر لیا۔ مجاہدی اوزان کی ایک جھلک ملاحظہ کیجیے: * لوگوں کو ہنساتا ہوں
گیلی لکڑی سے
میں آگ جلاتا ہوں
ایازعباسی(مجاہد کا قریبی بلاتکلف کشمیری دوست) نے ماہیا سن کر کسی قوال کی طرح سر ہلایا اور اصلاحیہ انداز سے مجاہد کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ اگر دوسرے مصرعے میں [لکڑی] کی جگہ[ لڑکی] ہوتا تو آگ کی حدّت اور شدّت میں خاصا اضافہ ہو جاتا، تاثیر بھی بڑھ جاتی۔ مجاہد نے صرف اتنا جواب دیا :
’’ عباسی صاحب! اس کوک شاستری رائے کو حنوط کرکے رکھ لیں جب
آزاد کشمیر اور زیادہ آزاد ہو گا تو اُس وقت یہ اثاثہ بڑا کام آئے گا۔‘‘
ابھی اس فاضلانہ اور فاسقانہ گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ ریڈیو پرمجاہد کی اُردوغزل خا لص پنجابی دھن میں پیش کی جانے لگی،آواز تو کسی اٹھارہ سالہ لڑکی کی تھی لیکن غزل میں بیان ہونے والے مضامین مردانگی کو للکارتے پھر رہے تھے،گانے والی جب اس شعر پر پہنچی مصرف نکل ہی آتا ہے بیکار چیز کا لاتا ہوں بھیک باپ کی پگڑی میں ڈال کے
تو ہر دوست اس ہجویہ قصیدے کے پنہاں گوشوں کو بے نقاب کرنے پر کمر بستہ نظر آیا۔ متفقہ رائے یہی قرار پائی کہ یہ شعر مٹتی تہذیب کا نوحہ ہے۔شاید ایسا ہی ہو۔میں تو یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ مجاہد بذاتِ خود بہت اچھا گلوکار اور صدا کار ہے،پرانے گانے شوق سے گاتا ہے ۔ اس کے گلے میں بھگوان نہیں بولتا پھر بھی اچھا گا بجا لیتا ہے۔مشاعروں میں جن لوگوں نے اسے گاتے سنا وہ یہ راز جان چکے ہیں کہ مجاہد کے گلے میںآخر بھگوان کیوں نہیں بولتا ! ممکن ہے اس کے گلے کا موسم معتدل نہ ہو۔یا ہمارا ادبی دیوتا اُس ارفعٰ مقام پر فائز ہو چکا ہے جہاں لوگ نوبل پرائز کی اُمید میں چھوٹے موٹے دیوتاؤں کو گلے لگانا پسند نہیں کرتے۔چونکہ مجھے موسیقی کی ابجد کا علم نہیں ورنہ اس پر ضرور روشنی ڈالتا۔البتہ اتنا لازماً کہوں گا کہ مجھے اس کا گانا بجانابالکل پسند نہیں،میرا دل تو چاہتا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے گائیگ مجاہد کا کلام دریائے کنہار کے کنارے بیٹھ کر گا رہے ہوں ،سگریٹ کا دھواں اُٹھ رہا ہو، ظلِ ہما (مجاہد کی ہمزاد) جھک جھک کو ہزاروی اور کشمیری مہمانوں کو پان کی گلوریاں تقسیم کر رہی ہو،کوقاف کی شہزادیاں ہاتھوں میں لوٹے لیے مہمانوں کی سیوا میں مصروف کبھی اِدھر کبھی اُدھر چلت پھرت سے ماحول کو رنگین بنا رہی ہوں اورہمارا مجاہد اچانک سب کو خاموشی کا اشارہ کر دے اور تحت اللفظ کا سہارا لیتے ہوئے راگ درپن میں اپنی وہ غزل چھیڑ دے جس کا یہ شعر مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔
جھٹک کر ڈالتی ہے جب وہ بھیگے بال شانے پر
تو نیچے دور وادی میں کہیں دریا چمکتا ہے
مجاہد کا تحت اللفظ اتنا دلکش ہے کہ اس کا اثر تحت الثری تک محسوس کیا جا سکتا ہے۔مجاہد کو میرا مشورہ ہے کہ وہ گانے سے تائب ہو جائے ورنہ میں اُس کا بینڈ بجا دوں گا۔مجھے قوی اُمید ہے کہ مجاہد کے باطن میں جو فرماں بردار بچہ پل رہا ہے وہ میرا کہامان لے گا۔مجاہد بنیادی طور پر دوست پرور اور دوست دار انسان ہے۔دوستوں کی باتوں پر لبیک کہنا اس کی جبلت کا لازمہ ہے۔
اس نے ڈیل کارنیگی اور سٹیفن کوی (Stephen Covey)کو پڑھے بغیر تمام دوستوں کے تمام حقوق پورے کر دیے ہیں۔یہ دنیاکے ہر دوسرے شخص سے محبت کرتا ہے اور بعض لوگوں سے تو بلا وجہ محبت کرتا ہے۔ دوستوں کی غیر موجودگی میں اُن کا ذکر اتنی کثرت اور مبالغہ آرائی کے ساتھ کرے گا گویا یہ اُن کا دوست نہیں پبلسٹی ایجنٹ ہے۔اس نے ہر دوست کی خوبیاں اور خامیاں زبانی رَٹ رکھی ہیں اور موقع محل دیکھے بغیر اُن کا الاپ شروع کر دیتا ہے۔ ڈاکٹرافتخار مغل تو اسے دوستوں کا میڈیکل ریپ (Medical Rep) کہتا ہے اور ساتھ یہ اضافہ بھی کرتا ہے کہ یہ اپنے کالے بیگ میں احباب کے ہمہ رنگ اعمال نامے اُٹھائے پھرتا ہے ،میں نے خود کئی مرتبہ محسوس کیا کہ مجاہد اپنے قریبی اور پسندیدہ یاروں کا ذکر اتنی میٹھا ئی اور ڈھٹائی سے کرتا ہے جیسے اس کے تمام دوست گوشت پوست کے نہیں بلکہ روحانی میٹریل کے ساختہ و پرداختہ ہیں جن سے کسی خطا کا سر زد ہونا محال ہے۔
مجاہد سے دوستی کرنے کے لیے صرف ایک ملاقات کافی ہے اور کبھی کبھی تو اس کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔دوستی ہی اس کا دین ایمان ہے،یہ چونکہ پیدائشی دوست ہے لہٰذا اس کا مرض لا علاج سمجھا جائے۔بقول احمد عطا اللہ (مجاہد کا یارِ غار) ’’ اس کی تو شکل ہی دوستوں والی ہے‘‘۔دوستوں سے باتیں کرنے کے دوران اس کے لب و لہجے سے گنے کا رس ٹپکنے لگتا ہے۔مجاہد ایسا خوش نصیب مردِ مومن ہے جسے دوستوں کی تمام ممکنہ اقسام میسر ہیں،بدیں سبب اس کا حلقہء احباب نیل کے ساحل سے لیکر تا بخاکِ کاشغر و کشمیر پھیلا ہوا ہے۔ہمارا دیسی کیمیا گر اپنے دوستوں کا تذکرہ اتنی محبت، اپنایت، جوش اور پیشہ وارانہ مہارت کیساتھ کرتا ہے جیسے اُن کے لیے گاہگ ڈھونڈ رہا ہو۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ ایسا حسنِ سلوک وہ صرف مرد دوستوں کے ساتھ ہی روا رکھتاہے۔دوستوں کے باب میں اُ س کی مبالغہ آمیزیاں،بزم آرائیاں اور اشتہار سجائیاں آئے دن بڑھتی چلی جا رہی ہیں یہ حدود نا آشنا رویے عارضی حکومتوں کے واسطے مستقل خطرات پیدا کر رہے ہیں کیونکہ عوام میں اِن منچلے دوستوں کی مقبولیت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔اگران دوستوں میں سے کوئی الیکشن میں جا کھڑا ہوا تو وہ بلا مبالغہ بلا مقابلہ مارا جائے گا،ہماری سیاست ابھی اتنی پاگل نہیں ہوئی کہ ایسے عناصر کو سرِعام مقبول ہونے کے لیے کُھلاچھوڑ دے۔ ناچار کافی سوچ بچار کے بعد آزاد کشمیر کی حکومت نے ہمارے مجاہد پر پابندی عاید کر دی کہ یہ شخص مظفر آباد،چکوٹھی،باغ،اور وادی نیلم کے تمام ملحقہ و غیر ملحقہ علاقوں میں کم از کم کشمیری دوستوں کا ذکر نہیں کر سکتا۔البتہ پاکستان میں وہ اپنی من پسند مصنوعات پر دل کھول کر بات کر سکتا ہے۔مجاہد کو پختہ یقین ہے کہ ایسی اوچھی پابندی لگوانے میں احمد عطااللہ نے اپنی سول سروسی کے تمام ذرائع ابلاغ استعمال کیے ہوں گے۔یہاں کیمیاگر ایک سخت ایکشن لے سکتا تھا لیکن عطا ء کو بر صغیر کا عمدہ شاعر ہونے کی وجہ سے معاف کر دیا۔ مجھے عطاء کا یوں بچ جانا اچھانہ لگا اور مجاہد کی سوئی غیرت کو جگانے کے لیے اُسی کا یہ شعر پڑھا
میں وہ بزدل ہوں جو ظالم کی حمایت میں اٹھا
اب میرا سر کسی مینار میں کام آئے گا
شعرسُن کر اعجاز نعمانی نے اس آگ کو خالص پٹرول سے بجھا تے ہوئے لقمہ دیا: ’ ’ویسے تو میرے گھر کی دیواروں پر قیمتی سنگِ مرمرلگا ہوا ہے اور اگر مجاہد ’’مینار‘‘ کے بجائے’’ دیوار ‘‘پر راضی ہو جائے تو اس نیک کام کے لیے میری دیوار حاضر ہے۔‘‘ کیمیاگر کو شایدیہ ریمارکس اچھے نہیں لگے،جل کرکہنے لگا ،اے میرے کم فہم دوست یہ شعری واردات ہے اور تم خواہ مخواہ مزے لینے کی خاطر اس کا پوسٹ مارٹم کر رہے ہو۔جب غصہ قدرے بڑھا تواپنے شعری ترکش کا نیا تیر پھینکا :
آسمانوں سے فرشتہ تو نہیں اُترے گا
شعر اُتریں گے،صحیفہ تو نہیں اُترے گا
اور پھر غصہ کم کرنے کے لیے انٹر نیٹ پر آسمانی پریوں کی ویب سائٹ کھول کر ڈاؤن لوڈنگ میں مصروف ہو گیا۔
میں چاہتا ہوں اُسے چھو کے دیکھ لوں اک بار
یہ وہم ہے، وہ سراپا ادا بھی وہم نہ ہو
در حقیقت مجاہد کی زندگی کا اصلی عکس دیکھنا یا دکھانا خاصا مشکل ہے۔مجاہد کی شخصیت پر لکھی جانے والی ہر تحریر نامکمل ہو گی ، حتٰی کہ میرا پیش کردہ خاکہ بھی مجاہد کی جیتی جاگتی تو نہیں البتہ اُنگھتی تصویر قرار دیا جا سکتاہے۔
خدا کی تخلیق کردہ کائنات اور اس کی بے حدو حساب وسعتیں ہمارے تصورات کو مہمیز کرتی ہیں اور ہمیں شعور حاصل ہوتا جا رہا ہے، کہ انسان ہی اس کائنات کا مرکزو محورکہلائے جانے کا مستحق ہے۔میرا تو شروع سے یہ عقیدہ رہا کہ خدا کے جو نناوے صفاتی اسمائے مبارکہ ہیں وہ کائناتِ اکبر اور کائناتِ اصغر دونوں کو روشنی فراہم کر رہے ہیں اور ہر نوعِ بشر ان میں سے کسی نا کسی اسم کے تابع زندگی بسر کر رہا ہے۔لوگوں کی زندگیاں جبّار و قہار یا پھر رحمن و رحیم کے زیرِ اثر مختلف کیفیات سے دوچار ہیں۔اپنے اس خود ساختہ فلسفے کی روشنی میں جب مجاہد کا مشاہدہ کیا تو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ انوارِ صمدیت کے حصار میں ہے۔اللہ کا ایک صفاتی نام’ صمد‘ یعنی بے نیاز بھی ہے،جو لوگ اس اسم کے تابع ہوں اُن کا حال سب کو معلوم ہے۔ہمارے بیشتر صوفیائے کرام اس اسم کے عشق میں ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔مجاہد کے گرد جو نورانی ہالا بنتا دکھائی دیتا ہے وہ اسی صمد کا فیض ہے۔ میں نہایت وثوق اور ذ مہ داری کے ساتھ یہ کہنا چاہوں گا کہ میرا دوست تشویش ناک حد تک بے نیازی کی کیفیت میں ڈوبا ہوا ہے۔آٹھ اکتوبر دوہزارپانچ کے عالمی سانحے نے ہر چیز کو اجاڑ کر رکھ دیا،بالاکوٹ میں مجاہد کا دو منزلہ گھر چند ساعتوں میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔اس صابر و شاکر شخص نے اپنے گھر کے ملبے پر کھڑے ہو کر نمازِ عصر ادا کی،شکرانے کے اضافی نوافل پڑھے، دعا مانگی کہ اے خدایا!تیرا لاکھ لاکھ شکر کہ تُو نے مجھے،میری ضعیف والدہ اور بیوی بچوں کو سلامت رکھا،اسی دوران ایک تازہ قطعہ کہا ،نئی غزل کے شعر ہموار کیے اور اپنی تمام حسرتوں کو بے گور و کفن سیّد شاہ اسماعیل شہید کے شکستہ مزار کے پہلو میں رکھ کر لڑکھڑاتے جذبوں کے سہارے ایبٹ آباد کی جانب روانہ ہو گیا۔غزلیہ اشعار کچھ یوں تھے:
یہ خشک چشمہ،یہ ٹوٹے مکاں،یہ اُجڑا دیار
اِسی جگہ پہ کبھی گھونسلہ ہمارا تھا
نماز ِ عصر پڑھی تھی مکاں کے ملبے پر
تلاوتِ غم ا نساں میں دن گزارا تھا
شعر کہہ چکنے کے بعد اسے اندازہ ہواکہ ابھی تو میں نے صرف آپ بیتی کا بیانیہ محفوظ کیا ہے اگر جگ بیتی بیان نہ کی تو علمِ تاریخ اور اہلِ بالاکوٹ دونوں کے ساتھ ناانصافی ہو جائے گی،اس خیال کے آتے ہی شعری آمد کا سلسلہ پھر بحال ہو گیا،کیمیاگر نے جلدی جلدی تما م کیفیات کو چار مصرعوں میں سمیٹا اور ایک قطعہ موزوں کر کے آسمان کی طرف ایسے دیکھنے لگاجیسے اُوپر والے سے مزید مصرعوں کا طلبگار ہو،جب وہاں سے کوئی جواب نہ آیا تو انہی پر قناعت کرتے ہوئے نئے قطعے پر ’’ آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵‘‘ کا عنوان جمایا اور سگریٹ سلگا کر کسی گہری سوچ میں گم ہو گیا،شاید وہ اُسی قطعے کی جادوئی کشش میں اُلجھ گیا تھا۔ آپ بھی سُنیے:
پانی تھامیسّر ، نہ کفن تھا ، نہ دعائیں
بے طور ہر اِک پیر و جواں دفن کیا تھا
ملبے سے نکالے تھے کئی پھول کئی خواب
اَب یاد نہیں کس کو کہاں دفن کیا تھا
ہمارا یہ متوکل کیمیاگر جب ایبٹ آباد وارد ہوا تو ہر دوست کی زبان پر بس یہی کلمہ تھا کہ احمد حسین مجاہد بڑا بے نیازانسان ہے۔ اس جواں ہمت نے مصائب سے ہار نہیں مانی،مجاہد کی یک ورقی لغت میں ہار کا لفظ موجود نہیں،یہ سچ ہے کہ اس نے ہارنا نہیں سیکھا۔اگر جیت کے موقع پر بھی اس کے گلے میں ہار ڈالا جائے تو یہ کہتے ہوئے اتار کر پھینک دیتا ہے کہ میں جیتی ہوئی بازی ہارنا نہیں چاہتا۔مجاہد کے لیے زندگی کے آلام و مصائب مٹی کے کھلونے ہیں،یہ ان کھلونوں سے کھیلتا ہے اور توڑ دیتا ہے،اس کے قریبی رشتے دار تک حیران ہیں کہ سانحہ آٹھ اکتوبر نے مجاہد کو کیوں نہیں توڑا۔دوستو! میرا مجاہد اس لیے ناقابلِ شکست ہے کہ یہ آفاتِ سماوی کو آیاتِ سماوی سمجھ کر فوراً قبول کر لیتا ہے۔ مجاہد کا یہی رویہ ہم سب کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
میں نے اکثر قریبی احباب کی زبانی سنا کہ مجاہد کی زندگی توکل ہی کے سبب روشن ہے۔توکُل نے اس کی زندگی میں اتنے رنگ بھرے اور ایسے ایسے نادر کرشمے دکھائے جن کا تعلق کسی اور دنیا کے ساتھ ہے۔اگر وہ ذرا ہمت کر کے ان سب پُر اسرار حالات و واقعات کی جمع آوری کر لے اور کتابی صورت میں مرتب کر ڈالے تو صوفیانہ ادب میں گراں قدر اضافہ ہو گا۔توکُل نے اس کے مادّی جسم کو اتنا شفّاف اور لطیف بنا دیا ہے کہ اگر یہ بہتے پانی پر بھی چل رہا ہو تو حیران نہیں ہونا چاہیے۔ سانحہ آٹھ اکتوبر نے مجاہد سے جو مجاہدے کروائے اُن کے طفیل اس کے دنیاوی معاملات براہِ راست نظام ربوبیّت کے سپرد ہو گئے، اب یہ شخص عالمِ اسباب کا باسی ضرور ہے لیکن اس کی فکر کا اسپِ تازی روزانہ ہفت افلاک کی مفت سیر کرنے پر بھی قادر ہو چکا ہے۔ ان سب عنایات کے باوجود اس کا عجز حاوی نظر آتا ہے۔اگرچہ اسے خود ادراک بھی ہے جس کا کھلے دل سے اعتراف کرتا ہے۔
کس کے مخبر ہیں عناصر پسِ افلاک ہے کون
بھید یہ کھول دے،ایسا مرا ادراک ہے کون
مجاہد کا کچھ نا کچھ تعلق فیثا غورثی مکتبہ فکر سے ضرور بنتا ہے کیونکہ ایک خاص صنف کا ذکر کرتے ہوئے وہ ہمیشہ لفظوں سے زیادہ ہندسوں کا استعمال کرتا ہے،ابھی چند دن اُدھر کی بات ہے اُس نے مجھے بھی یہ کلیہ سکھایا کہ اگر اٹھارہ کے ہندسے کو دو سے ضرب دی جائے توناری کا حدود اربعہ نکل آتا ہے،اور ایسا نکلتا ہے کہ پھر انسان اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر گھر تک سے نکل یا نکال دیا جاتا ہے۔ اسی سادہ اُصول پرعمل کرتے ہوئے راجہ اندر کی سبھا میں اٹھارویں ہندسے کی بہتات نظر آتی ہے۔ہمارا گلفام اسی رنگین سبھا میں نیلم اور پکھراج جیسی حسین پریوں کے ساتھ معاملہ مندی میں مصروف دیکھا گیا ہے۔ہمارا راجہ لڑ کیوں کے حساب کتاب میں صرف جمع،تفریق اور ضرب کا قائل ہے،اگر یہ دریا دل انسان تقسیم کا بھی قائل ہوتا تو آج اس کے نزدیکی دوستوں کی تعداد ہزار سے ضرب کھا چکی ہوتی۔ مجاہد کے دستورِ عشق میں اٹھارہ کا ہندسہ اس قدر غالب ہے کہ بالآخر عطاء کو یہ کہنا پڑا:
’’ دنیا چاہے اِدھر سے اُدھر ہو جائے مجاہد کی یہ اٹھارویں ترمیم ہمیں منظور کرنا ہی پڑے گی۔‘‘
اس اعلان نے مجاہد کو خوشی سے نہال کر دیا،اور جب وہ بے طرح خوش ہو چکنے کے بعد بے حال ہواتو اُس نے ارشادِ عالیہ سے نوازتے ہوئے کہا اے میرے من موہن دوستو! یاد رکھنا:
’’ عورت جتنی غیر محتاط ہو گی،اتنی ہی زیادہ چاہے جانے کے لائق بھی ہو گی‘‘
فرمان جاری کرنے کے بعد امیر مینائی کے اس شعر کا ورد کرنا شروع کر دیا:
باغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی
بھیجنا ہیں ایک کم سِن کے لیے
مجاہد کہتا ہے کہ دنیاکی ہر چیز ہندسوں پر چلتی ہے،موبائل فون،کریڈٹ کارڈ،انعامی سکیمیں ، بجلی اور گیس کے میٹر، حتیٰ کہ سپیس ٹیکنالوجی کاپورا نظام ہندسی گورکھ دھندوں کا محتاج ہے۔سائنسی حوالے سے دیکھیں تو مادّے کی لمبائی،چوڑائی،موٹائی،گولائی اور سمٹائی کا اندراج ہندسوں میں ہی ممکن ہے۔غرض کاسمالوجی اور عشقالوجی پر سنجیدہ گفتگو کے دوران اگر ہندسوں کا استعمال کریں توہزار طرح کے مغالطوں
اور حماقتوں سے بچا جا سکتا ہے۔مجاہد کو مردانہ اصناف میں صرف اپنے دوست اچھے لگتے ہیں لیکن زنانہ اصناف میں اس کا مشرب صلحِ کُل ہے،ہندستانی ناریوں کا اتنا شیدائی کہ ہمہ وقت اس کے ہونٹوں پر حکیم الامت کا یہ مصرع رقص کرتا رہتا ہے:
ع سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
مجاہد کی اپنی شاعری اتنی اچھی ہے کہ اگر یہ ہندستان میں پیدا ہوتا تووہاں کی اگنی دیوی اپنی پرستش کے تمام حقوق اس ہزاروی دیوتا کے نام منتقل کر دیتی ۔مجاہد کا فنِ کیمیاگری اس کی شاعری میں نظر آتا ہے۔ایک دفعہ کا ذکرہے کہ میں نے اس کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے عالمِ وجد میں یہ جملہ لکھ دیا تھا :
(احمد حسین مجاہد کی شاعری پر اسرار رومان پرور فضاؤں کی ایسی نادر تمثالوں پر مشتمل ہے جہاں حقیقت،تخیل،بصیرت اور وجدان لمحہ بہ لمحہ باطنی کیفیات کی مصوری کرتے نظر آتے ہیں)
مجاہد کو میرا یہ جملہ پسند تو بہت آیا لیکن وہ جب ملتا یہی کہتاآخر اس فصیح و جمیل جملے کا مطلب ہے کیا ؟آج دل چاہتا ہے کہ اس جملے کے دقیق نکات کھول دیے جائیں تا کے مجھے بھی پتا چلے کہ عالمِ وجد و جنوں میں مجھ سے کیا سرزد ہو گیا تھا۔مجھے اس راہ کی مشکلات کااندازہ ہے اوریہ بھی جانتاہوں کہ’’ ایں سخن را فاش تر گفتن خطاست‘‘ ( یہ بات کھل کر کہنا خطا ہے،غالب کا مصرع)
اس جملے کی شرح کچھ یوں ہے کہ مجاہد کا تخیل اور وجدان دور دراز کے پہاڑوں اور جنگلوں سے وہ تمام نادر جڑی بوٹیاں اکٹھی کر لیتا ہے،جو سونا بنانے کے عمل میں کام آتی ہیں۔یہ کہنا بھی ٹھیک ہو گا کہ سمیری،یونانی،مصری،کلدانی اور ہندی دیوی دیوتا ہمارے مجاہد کو اس طرح کا تمام خام مال تبرکاً ہدیہ کر جاتے ہیں جن سے سونا بنایا جا سکتا ہے۔مجاہد کیمیاگر ہے،اس کے لفظ سونا اُگلتے ہیں،اس کا ہر شعر ۲۴ قیراط کا سونا ہے،اصلی،قیمتی اور وزن میں پورا۔
مجاہد کی رومان پرور شاعری دیومالائی اور اساطیری پردوں میں لپٹی ہوئی ہے۔جذبات کا خالص عطر جب نفسیاتی رمز و کنایہ کوتمثیل و استعارہ میں بیان کرتا ہے اور تخیل کی پرواز خیال افروز قوت کو جنم دیتی ہے تو اُس وقت مجاہد کی شاعری کائنات سے ہم کلام ہو نے کا شرف حاصل کرتی ہے۔اس کی شعری فضا دُھند میں لپٹے جنگل کی مانند ہے،جہاں کا ہر منظر روح پرور اور دل کش ہے۔میں احمد حسین مجاہد کی شخصیت کو اُس کی شاعری سے جدا کر کے دیکھ ہی نہیں سکتا،مجاہد کو جاننے اور سمجھنے کی لیے اگر اُس کی شاعری کا حوالہ نہ آئے تو مجھے مجاہد نظر آنا بند ہو جاتا ہے، سانحہ آٹھ اکتوبر کے بعد اُسے جس قوت نے زندہ رکھا وہ بلامبالغہ اس کی شاعری تھی۔
مجاہد کی شاعری اثر ،تاثراور تاثیر کی دولت سے مالا مال ہے۔یہ ہزارہ کا واحد شاعر ہے جو در زبانِ شعرپیش گوئی کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے شعری مجموعے ناسٹر و ڈیمس(Nostradamus)اور مایا کیلنڈر کی طرح خطرناک ثابت ہو چکے ہیں۔
کائنات کے ساتھ ہم کلام ہونے کا نتیجہ شعرا،صوفیا اور سائنس دانوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔مجاہدپہلے تو شاعری کے ذریعے پیش گوئی کرتا ہے،
پھر جس علاقے میں پیش گوئی نے گُل کھلانا ہو یہ حد درجہ ذمہ داری کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے وہاں سے بھاگ جاتا ہے، اور کسی دوسرے محفوظ شہر میں بیٹھ کر اپنی پیش کردہ پیش گوئی کے پورا ہونے کا انتظار کرتا ہے۔یہ غالباً ۱۹۹۴ء کے آس پاس کی بات ہے کہ مجاہد نے ایک آفاقی و سفّاکی شعر کہا:
زباں سمجھتا ہوں میں ٹوٹتے ستا روں کی ، یہ شہر مجھ کو اُجڑ تا دکھائی دیتا ہے
اس شعر نے آخرش بالاکوٹ کو اُجاڑ کرہی چھوڑا۔مجاہد بعد میں بہت پچھتایا کہ ایسا ایٹمی شعر کیوں لکھا!دوستوں نے کفارہ ادا کرنے کا مشورہ دیا،مجاہد فرماں بردار بچے کی طرح کفارے کی فکر میں غلطاں و پیچاں پھرتا رہا اور ایک دن اپنے گھر میں معتکف ہو کرکسی پراَسرار تصنیفی منصوبے میں گم ہو گیا اور پورے نوّے(۹۰) دنوں کے بعد جب دوستوں کی دنیا میں وارد ہو ا تو اس کے ہاتھ میں ’’صفحہء خاک‘‘ کا پہلا اڈیشن چمک رہا تھا(یہ کتاب سانحہ بالاکوٹ کی تہذیبی اور ثقافتی اقدار کی یادگار تاریخ پر مشتمل ہے اس نوعیت اور موضوع پر اُردو زبان میں شاید دوسری کتاب موجود نہیں)میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کفارے کو کتاب کی شکل میں ڈھلتے دیکھا ۔بہرحال نوے دنوں والا تکلف ہم سب کی سمجھ شریف سے باہر رہا،اچانک احمد عطا اللہ اپنے مخصوص شرارتی موڈ میں کہنے لگا’’ جے اگر اٹھارہ نوں پنج نال ضرب دو تے جواب نوے ہی بنڑدا ‘‘،اس منطقی جواب نے سب کو لاجواب کر دیااور ہم دوستوں کو کامل یقین ہو گیا کہ معاملہ چاہے سنجیدہ ہو یا غیر سنجیدہ ہمارا کیمیاگر اَٹھارہ کے پھیر سے باہر نہیں نکل سکتا، یا پھر نکلنا ہی نہیں چاہتا۔ عطا پھر بولا،’’اوئے اینوں نکلنے دی لوڑ ہی کیڑی اے‘‘ ۔مجاہد نے دوستوں کے ملفوظات بغورسنے اور کفارے کی مدح میں اپنا پراناشعر با آوازِ بلند پڑھ کر اِدھر اُدھر ٹہلنے لگا :
کوئی خواب میرے وجود میں کہیں ریزہ ریزہ بکھر گیا
مرے ہاتھ کچھ نہ لگا مگر،مرے سر سے بوجھ اتر گیا
ان دنوں ہمارا عظیم کیمیاگر ایبٹ آباد میں مقیم ہے،ہم نے اس پر پابندی عائد کر رکھی ہے کہ از راہِ مہربانی اس شہر کی شان میں کوئی شعر موزوں نہ کیا جائے،اور اگر شہروں کہ نسبت سے شاعری کرنا ایسا ہی ضروری ہے تو پھر صرف امریکی علاقوں پر شاعرانہ بمباری کی جائے، آخر اُس سُپرپاور پر بھی تو کوئی لکھنے لکھانے والا ہونا چاہیے۔
مجھے مجاہد کی دوستی اور شاعری پر ناز ہے۔یہ میری زندگی کی فخریہ پیش کش بھی ہے۔مجھے اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہمیشہ سے میرا قریبی دوست رہا ہے۔گو کہ مجاہد کا نام پہلی دفعہ پچاسی کی دہائی میں سنا او ر ۹۰ ۱۹ ء میں کہیں دیدارِ عام نصیب ہوا،لیکن باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵ ء کے فوراً بعد شروع ہو گیا تھا۔اس شخص کے ساتھ میری کوئی قدیمی نسبت ضرور نکلتی ہے۔کیونکہ بالاکوٹ کے ساتھ میرا جو اٹوٹ رشتہ ہے وہ صدیوں پرانا لگتا ہے،کیا یہ حیران کن بات نہیں کہ بالا کوٹ میں میرا کوئی عزیز رشتے دار وغیرہ آباد نہیں اور میں اس علاقے میں اَن گنت دفعہ جا چکا ہوں اور ہر بار یہاں آنے کے لیے تیار رہتا ہوں۔مجھے اس علاقے کی مٹی سے جو اپنائیت محسوس ہوتی ہے اُس کا بیان لفظوں میں ممکن نہیں۔میرے بچوں کو بھی اس علاقے سے عشق ہے۔سچ تو یہ ہے کہ بالاکوٹ ہمارا گھر ہے۔
مجاہد کی شخصیت ایسی جادوئی اور الف لیلوی دھنک جیسی ہے جس کے رنگوں کا شمار ممکن نہیں،غزل کا رنگ نمایاں ہے۔نظم گوئی پر توجہ کم ہونے کے باوجود چند بہترین نظمیں اس کی پہچان بن چکی ہیں۔مجاہد کی شعری مابعد الطبیعیات کاخمیر فلسفیانہ اور قلندارانہ تخیلات پر اُستوارہے ۔ اس کے ہاں ایک مخصوص فضا بنتی نظر آتی ہے جہاں رنگ،منظر،خوشبو،خیال،جذبہ،مطالعہ،مشاہدہ،حکمت، ادراک، خواب،فکر،تمثال اور لطافت یہ سب عناصر مل کر ایک نئی دنیا تخلیق کرتے ہیں۔مجاہد اپنی تخلیق کردہ دنیا کا اجنبی شہری ہے کیونکہ یہ بھی اس کی حتمی منزل نہیں ۔ہمارا کیمیاگر روز شام کو تخیل کی اُڑن طشتری پر سوارافلاک کی سیر پر روانہ ہو جاتا ہے۔راستے میں آنے والی حسین کہکشائیں اس کا خیر مقدم کرتی ہیں مگر وہ ان سب پر اَلودعی نظر ڈال کر آگے بڑھتا جاتا ہے۔ ایک دن اسی سیر کے دوران اچانک اس کے کان میں کسی نے سرگوشی والے انداز میں پوچھا تم کون ہو اور یہاں کس کام سے آئے ہو؟
مجاہد نے بڑے اطمینان کے سا تھ سرگوشی کی طرف دیکھا اور جواباً اپنا شعر اُسے سنایا:
بندھی ہے گردشِ افلاک میرے سانسوں سے
یہاں میں اپنے کسی کام سے ہیں آیا
آسمانی سرگوشی خوش ہو کر رنگوں کی صورت مجسم ہونے لگی،تجسیم کا عمل جب مکمل ہو چکا تو مجاہد نے دیکھا کہ اس جما ل انگیزسر گوشی کی عمر مبلغ اٹھارہ سال ہے،ابھی وہ مزید کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ رنگین سرگوشی نے خود کو اٹھارہ برس کی الھڑ دوشیزہ کا روپ دے ڈالا،مجاہد نے جیسے ہی اُس کا تازہ روپ مشاہدہ کیا اُس کا سانس اُوپر کا اُوپر اور نیچے کا سانس بھی اُوپر روانہ ہو گیا، وہ مست ہو کر ناچنے لگا ، نزدیکی زُہرہ ستارے سے مدھم سروں میں ’’دم مست قلندر مست مست ‘‘کی دھن بجنا شروع ہو گئی،مجاہد کی انتہائی خوشی کی وجہ یہ تھی کہ اُس کا آئیڈیل(ideal) اپنی تمام تر صفات کے ساتھ سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا ،اُس کی دعوتی مسکراہٹ اور مہنگاپتلا ریڈی میڈ ریشمی لباس مجاہد کو بد حواس کیئے جا رہا تھا۔ ناچار اپنی بچی کچی ہمت مجتمع کی اور اُسے گلے لگا نا چاہا ، مگر یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ فاصلہ سمٹ نہیں رہا،ایک کوشش اور کر دیکھی، پھر بھی اُس تک نہ پہنچ سکا۔ دوشیزہ نے قہقہ لگاتے ہوئے کہاکہ ’’ تمہارے اور میرے درمیان صرف اٹھارہ سیکنڈز کا نوری فاصلہ ہے جو دیکھنے میں بہت معمولی لگتا ہے لیکن طے کرنا چاہو گے تو ایک عمر نہیں بلکہ کئی عمریں درمیان پڑ جائیں گی اور فاصلہ سمٹ نہیں پائے گا۔‘‘مجاہد کو یہ بات بُری لگی،اُس نے دوشیزہ کو سمارٹ نظروں سے دیکھا اور کہکشانی پگڈنڈیوں کا شارٹ کٹ راستہ اختیار کرتے ہوئے واپس اپنے گھر آگیا۔مجاہد جانتاہے کہ اُس کا تخیل روشنی کی رفتار کو بآسانی مات کر سکتا ہے اور وہ نوری مدّت کی مہمات پلک جھپکنے میں طے کرنے پر قادرہے،مگراُس کی وضع داری آڑے آ گئی اور آسمانی سرگوشی کو اپنی اِن صفات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ اگر یہ سب کچھ اُس سرگوشی کو بتا دیتا تو وہ ’’خرگوشی‘‘ اِس کا ہاتھ تھام لیتی اور یوں دونوں ہنسی خوشی رہنے لگتے۔ میںآج تک اس اُلجھن کا شکار ہوں کہ مجاہد نے اپنا مثالیہ (ideal) حاصل کیوں نہیں کیا!ہاتھ آئی جنت کو اس آسانی سے چھوڑ دینا آسان نہیں ہوتا۔مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے مجاہد نے خود کو ایک جبری سفر پر روانہ کیا ہوا ہے،سفر ہی اُس کی اصل منزل ہے۔اسے جنگلوں، صحراؤں اور خلاؤں میں رہنا پسند ہے، اگر ہمارا مجاہد ناسا (NASA) کے کسی خلائی مشن کا حصہ بن کر خلا میں چلا جائے،اورجب اس کے باقی ساتھی مشن مکمل کرنے کے بعد واپس زمین پر آنے کی تیاری کر رہے ہوں گے تو عین اُسی لمحے میرا مجاہد اپنے خلائی راکٹ کی ٹینکی کسی قریبی CNG ا سٹیشن سے ’’ فُل‘‘ کرا کر نئی کہکشاؤں کو کھوجنے نکل جائے گا۔مجاہد اَن دیکھی دنیائیں تلاشنے کا شو قین ہے اور سفر پرجانے کیلئے ہر وقت تیار رہتاہے۔اس کے پاس وہ عرفانی وجدان موجود ہے جو اسے کائناتی وسعتوں میں لاتا لے جاتا رہتا ہے۔مجاہد کی حکمت آمیز شاعری میں کائناتی علائم و رموز کا ذکر اپنا ایک وسیع پس منظر رکھتا ہے،اس کی شاعری سے سرسری گزرنا مشکل ہے۔اس کا ہر شعر فکری قوتوں کو متحرک کرتا ہے۔مجاہد کی شاعری اور شخصیت اصل میں دونوں ایک ہیں۔
مجاہد کے سا تھ میرا جب بھی تفصیلی ملاقات کرنے کادل چاہے میں اُس کی شاعری پڑھنا شروع کر دیتا ہوں،اور اپنے ہر مطالعےکا آغاز اِن اشعار سے کرتا ہوں:
کیمیا گر
عامر سُہیل(ایبٹ آباد)
بہت سوچا،ذہن پر بڑا زور مارا،یادوں کا ملبہ اِدھر اُدھر ہٹا کر ڈھونڈنے کی آخری بہترین کوشش کر دیکھی مگر پھر بھی یاد نہ آ سکا کہ احمد حسین مجاہد سے میری پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی تھی!یہ پہلی ملاقات کہیں کھو گئی ہے۔خدایا! اسے کیسے تلاش کروں؟ کرب کی اسی حالت میں ذہن نے حل نکالا کہ ملاقات کی گم شدگی کا اشتہار دیا جائے اور اشتہارکا مضمون اتنا جاندار ہو کہ اگر مجاہد خود پڑھے تو ملاقات کی تلاش میں نکل کھڑا ہو،پھر خیال آیا کہ اس طرح تو یہ اشتہاری ملاقات بن کر رہ جائے گی اور اصل مسئلہ تو یہ سامنے آیا کہ گمشدہ ملاقات کا اشتہارشائع کون کرے گا؟سوالات کا جمِ غفیر اب ٹار نیڈو (Tornedo) کی شکل اختیار کرتاچلا جا رہا تھا اور دماغ کے خلیوں نے بھی آپس میں سرگوشیاں کرنا شروع کر دی تھیں ،یادوں کی طوفانی ہواؤں نے سوچنے کا عمل بُری طرح متاثر کر دیا ۔
اچانک ذہن کے کسی نہاں گوشے میں زیرو واٹ کا نیلا بلب روشن ہو گیا اور یہ نیا سوال اُبھرا کہ آیا احمد حسین مجاہد کے ساتھ میری پہلی ملاقات ہوئی بھی تھی یا نہیں؟مدھم نیلی روشنی میں پیدا ہونے والے اس نومولود سوال نے مجھے یکلخت چونکا دیا اور ذہن پر چھائی تاریکی مزید گہری ہو گئی،میں نے وحشت کے عالم میں سوچنے کا عمل بند کر دیا کیونکہ اعصابی نظام کی تھکاوٹ نے اب میرے ہر سوال کا جواب نئے سوال کی صورت میں ڈھالنے کا بے انت سلسلہ شروع کر دیا تھا۔دن گزرتے گئے،اُلجھن بڑھتی گئی۔پہلی ملاقات بھولے بسرے خواب کی مانند اپنا وجود کھو بیٹھی،صرف ایک خلش یادوں سے چپک کر رہ گئی۔
جب پہلی ملاقات کا روگ ذرا کم ہوا تو دوسری ملاقات کے بارے میں سوچنے لگا،فوراً یاد آ گیا،یہ ملاقات ایبٹ آباد کی کسی ادبی تقریب میں ہوئی تھی۔پھر سلسلہ چل نکلا اور دریائے کنہار کی مانند تاحال رواں دواں ہے۔
احمد حسین مجاہد کا کوائف نامہ یا شناختی حوالہ جات کچھ مختصر معلوم ہوتے ہیں۔محض اتنا کہہ دینا کا فی ہے کہ بالا کوٹ کا رہنے والا، بے بدل شاعر،دوست پرور اور اچھا انسان۔نیز آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵ ء کے بعد بالا کوٹ سے ہجرت اوراب ایبٹ آباد کا مستقل رہائشی و سکونتی۔لوگوں کے نزدیک بڑا آدمی ہے،خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔ویسے عام گفتگو اور بول چال سے بڑا آدمی ہی دکھتا ہے۔بالاکوٹ کی سر زمین غازیوں اور شہیدوں کی وجہ سے خاص شہرت رکھتی ہے مگر مجاہد کی بدولت یہ خطّہ شعرو سخن کی پہچان بھی بن گیا ہے۔اس کی مجاہدانہ زندگی ادبی کارناموں سے لدی پھندی نظر آتی ہے۔ ’’دُھند میں لپٹا جنگل‘‘ اس کی پہلی شعری تصنیف کا نام ہے جسے ادبی حلقوں میں ایسی شان دار پذیرائی نصیب ہوئی کہ ساقی فاروقی جیسے جیدمنہ زور نقاد نے اس کی پوری کتا ب پڑھ ڈالی، اور ساتھ یہ بھی کہا:
’’تمہاری تازگی اور زبان پر کنٹرول نے متاثر کیا۔تم میں ایک اچھے شاعر نے بسیرا کیا ہے، اِس کا خیال رکھنا۔‘‘
مجاہد نے ساقی کی بات ہنس کر ٹال دی اور اپنی ساری توجہ جھیل سیف الملوک کی نثری رومانوی داستان لکھنے پر مرکوز کر دی، لوگوں نے یہ داستان اتنی پسندکی کہ مجاہد لامحالہ نثری قبیلے کا معروف تخلیق کار بن کرسامنے آگیا۔جب مجاہد کی نثر کا جادو سر سے نیچے اُتر کر بولنے لگا تویہ سامری جادو گر مختصر افسانے کو مختصر ترین افسانے بنا کر احمد ندیم قاسمی اور اہلِ فنون کو حیرت زدہ کر نے بیٹھ گیا۔مجاہد کو جب اپنی حیثیتِ عرفی (شہرتِ عام) کا احساس تنگ کرنے لگا تو اس نے صنفِ ماہیا کے اصل اوزان کی تبلیغ شرو ع کر دی، اس طبع زاد کوشش کی بدولت محض ایک ماہ کی قلیل مدت میں بڑے بڑے ماہیا نگار اس کی مخالفت پر اتر آئے، مگر جب ٹھنڈے دماغ سے سوچا تو پھرکھلے دل سے تسلیم کرنا پڑا کہ مجاہد کے تجویز کردہ اوزان میں بڑا وزن ہے۔ اب پاک و ہند میں پیدا ہونے والے ہر نئے ماہیے کو مجاہدی اوزان میں تولا جاتا ہے،اگر وزن پورا نکلے تو اُس کے حلالی ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ یوں یہ ادبی معرکہ بالاکوٹ کے غازی نے سر کر لیا۔ مجاہدی اوزان کی ایک جھلک ملاحظہ کیجیے: * لوگوں کو ہنساتا ہوں
گیلی لکڑی سے
میں آگ جلاتا ہوں
ایازعباسی(مجاہد کا قریبی بلاتکلف کشمیری دوست) نے ماہیا سن کر کسی قوال کی طرح سر ہلایا اور اصلاحیہ انداز سے مجاہد کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ اگر دوسرے مصرعے میں [لکڑی] کی جگہ[ لڑکی] ہوتا تو آگ کی حدّت اور شدّت میں خاصا اضافہ ہو جاتا، تاثیر بھی بڑھ جاتی۔ مجاہد نے صرف اتنا جواب دیا :
’’ عباسی صاحب! اس کوک شاستری رائے کو حنوط کرکے رکھ لیں جب
آزاد کشمیر اور زیادہ آزاد ہو گا تو اُس وقت یہ اثاثہ بڑا کام آئے گا۔‘‘
ابھی اس فاضلانہ اور فاسقانہ گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ ریڈیو پرمجاہد کی اُردوغزل خا لص پنجابی دھن میں پیش کی جانے لگی،آواز تو کسی اٹھارہ سالہ لڑکی کی تھی لیکن غزل میں بیان ہونے والے مضامین مردانگی کو للکارتے پھر رہے تھے،گانے والی جب اس شعر پر پہنچی مصرف نکل ہی آتا ہے بیکار چیز کا لاتا ہوں بھیک باپ کی پگڑی میں ڈال کے
تو ہر دوست اس ہجویہ قصیدے کے پنہاں گوشوں کو بے نقاب کرنے پر کمر بستہ نظر آیا۔ متفقہ رائے یہی قرار پائی کہ یہ شعر مٹتی تہذیب کا نوحہ ہے۔شاید ایسا ہی ہو۔میں تو یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ مجاہد بذاتِ خود بہت اچھا گلوکار اور صدا کار ہے،پرانے گانے شوق سے گاتا ہے ۔ اس کے گلے میں بھگوان نہیں بولتا پھر بھی اچھا گا بجا لیتا ہے۔مشاعروں میں جن لوگوں نے اسے گاتے سنا وہ یہ راز جان چکے ہیں کہ مجاہد کے گلے میںآخر بھگوان کیوں نہیں بولتا ! ممکن ہے اس کے گلے کا موسم معتدل نہ ہو۔یا ہمارا ادبی دیوتا اُس ارفعٰ مقام پر فائز ہو چکا ہے جہاں لوگ نوبل پرائز کی اُمید میں چھوٹے موٹے دیوتاؤں کو گلے لگانا پسند نہیں کرتے۔چونکہ مجھے موسیقی کی ابجد کا علم نہیں ورنہ اس پر ضرور روشنی ڈالتا۔البتہ اتنا لازماً کہوں گا کہ مجھے اس کا گانا بجانابالکل پسند نہیں،میرا دل تو چاہتا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے گائیگ مجاہد کا کلام دریائے کنہار کے کنارے بیٹھ کر گا رہے ہوں ،سگریٹ کا دھواں اُٹھ رہا ہو، ظلِ ہما (مجاہد کی ہمزاد) جھک جھک کو ہزاروی اور کشمیری مہمانوں کو پان کی گلوریاں تقسیم کر رہی ہو،کوقاف کی شہزادیاں ہاتھوں میں لوٹے لیے مہمانوں کی سیوا میں مصروف کبھی اِدھر کبھی اُدھر چلت پھرت سے ماحول کو رنگین بنا رہی ہوں اورہمارا مجاہد اچانک سب کو خاموشی کا اشارہ کر دے اور تحت اللفظ کا سہارا لیتے ہوئے راگ درپن میں اپنی وہ غزل چھیڑ دے جس کا یہ شعر مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔
جھٹک کر ڈالتی ہے جب وہ بھیگے بال شانے پر
تو نیچے دور وادی میں کہیں دریا چمکتا ہے
مجاہد کا تحت اللفظ اتنا دلکش ہے کہ اس کا اثر تحت الثری تک محسوس کیا جا سکتا ہے۔مجاہد کو میرا مشورہ ہے کہ وہ گانے سے تائب ہو جائے ورنہ میں اُس کا بینڈ بجا دوں گا۔مجھے قوی اُمید ہے کہ مجاہد کے باطن میں جو فرماں بردار بچہ پل رہا ہے وہ میرا کہامان لے گا۔مجاہد بنیادی طور پر دوست پرور اور دوست دار انسان ہے۔دوستوں کی باتوں پر لبیک کہنا اس کی جبلت کا لازمہ ہے۔
اس نے ڈیل کارنیگی اور سٹیفن کوی (Stephen Covey)کو پڑھے بغیر تمام دوستوں کے تمام حقوق پورے کر دیے ہیں۔یہ دنیاکے ہر دوسرے شخص سے محبت کرتا ہے اور بعض لوگوں سے تو بلا وجہ محبت کرتا ہے۔ دوستوں کی غیر موجودگی میں اُن کا ذکر اتنی کثرت اور مبالغہ آرائی کے ساتھ کرے گا گویا یہ اُن کا دوست نہیں پبلسٹی ایجنٹ ہے۔اس نے ہر دوست کی خوبیاں اور خامیاں زبانی رَٹ رکھی ہیں اور موقع محل دیکھے بغیر اُن کا الاپ شروع کر دیتا ہے۔ ڈاکٹرافتخار مغل تو اسے دوستوں کا میڈیکل ریپ (Medical Rep) کہتا ہے اور ساتھ یہ اضافہ بھی کرتا ہے کہ یہ اپنے کالے بیگ میں احباب کے ہمہ رنگ اعمال نامے اُٹھائے پھرتا ہے ،میں نے خود کئی مرتبہ محسوس کیا کہ مجاہد اپنے قریبی اور پسندیدہ یاروں کا ذکر اتنی میٹھا ئی اور ڈھٹائی سے کرتا ہے جیسے اس کے تمام دوست گوشت پوست کے نہیں بلکہ روحانی میٹریل کے ساختہ و پرداختہ ہیں جن سے کسی خطا کا سر زد ہونا محال ہے۔
مجاہد سے دوستی کرنے کے لیے صرف ایک ملاقات کافی ہے اور کبھی کبھی تو اس کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔دوستی ہی اس کا دین ایمان ہے،یہ چونکہ پیدائشی دوست ہے لہٰذا اس کا مرض لا علاج سمجھا جائے۔بقول احمد عطا اللہ (مجاہد کا یارِ غار) ’’ اس کی تو شکل ہی دوستوں والی ہے‘‘۔دوستوں سے باتیں کرنے کے دوران اس کے لب و لہجے سے گنے کا رس ٹپکنے لگتا ہے۔مجاہد ایسا خوش نصیب مردِ مومن ہے جسے دوستوں کی تمام ممکنہ اقسام میسر ہیں،بدیں سبب اس کا حلقہء احباب نیل کے ساحل سے لیکر تا بخاکِ کاشغر و کشمیر پھیلا ہوا ہے۔ہمارا دیسی کیمیا گر اپنے دوستوں کا تذکرہ اتنی محبت، اپنایت، جوش اور پیشہ وارانہ مہارت کیساتھ کرتا ہے جیسے اُن کے لیے گاہگ ڈھونڈ رہا ہو۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ ایسا حسنِ سلوک وہ صرف مرد دوستوں کے ساتھ ہی روا رکھتاہے۔دوستوں کے باب میں اُ س کی مبالغہ آمیزیاں،بزم آرائیاں اور اشتہار سجائیاں آئے دن بڑھتی چلی جا رہی ہیں یہ حدود نا آشنا رویے عارضی حکومتوں کے واسطے مستقل خطرات پیدا کر رہے ہیں کیونکہ عوام میں اِن منچلے دوستوں کی مقبولیت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔اگران دوستوں میں سے کوئی الیکشن میں جا کھڑا ہوا تو وہ بلا مبالغہ بلا مقابلہ مارا جائے گا،ہماری سیاست ابھی اتنی پاگل نہیں ہوئی کہ ایسے عناصر کو سرِعام مقبول ہونے کے لیے کُھلاچھوڑ دے۔ ناچار کافی سوچ بچار کے بعد آزاد کشمیر کی حکومت نے ہمارے مجاہد پر پابندی عاید کر دی کہ یہ شخص مظفر آباد،چکوٹھی،باغ،اور وادی نیلم کے تمام ملحقہ و غیر ملحقہ علاقوں میں کم از کم کشمیری دوستوں کا ذکر نہیں کر سکتا۔البتہ پاکستان میں وہ اپنی من پسند مصنوعات پر دل کھول کر بات کر سکتا ہے۔مجاہد کو پختہ یقین ہے کہ ایسی اوچھی پابندی لگوانے میں احمد عطااللہ نے اپنی سول سروسی کے تمام ذرائع ابلاغ استعمال کیے ہوں گے۔یہاں کیمیاگر ایک سخت ایکشن لے سکتا تھا لیکن عطا ء کو بر صغیر کا عمدہ شاعر ہونے کی وجہ سے معاف کر دیا۔ مجھے عطاء کا یوں بچ جانا اچھانہ لگا اور مجاہد کی سوئی غیرت کو جگانے کے لیے اُسی کا یہ شعر پڑھا
میں وہ بزدل ہوں جو ظالم کی حمایت میں اٹھا
اب میرا سر کسی مینار میں کام آئے گا
شعرسُن کر اعجاز نعمانی نے اس آگ کو خالص پٹرول سے بجھا تے ہوئے لقمہ دیا: ’ ’ویسے تو میرے گھر کی دیواروں پر قیمتی سنگِ مرمرلگا ہوا ہے اور اگر مجاہد ’’مینار‘‘ کے بجائے’’ دیوار ‘‘پر راضی ہو جائے تو اس نیک کام کے لیے میری دیوار حاضر ہے۔‘‘ کیمیاگر کو شایدیہ ریمارکس اچھے نہیں لگے،جل کرکہنے لگا ،اے میرے کم فہم دوست یہ شعری واردات ہے اور تم خواہ مخواہ مزے لینے کی خاطر اس کا پوسٹ مارٹم کر رہے ہو۔جب غصہ قدرے بڑھا تواپنے شعری ترکش کا نیا تیر پھینکا :
آسمانوں سے فرشتہ تو نہیں اُترے گا
شعر اُتریں گے،صحیفہ تو نہیں اُترے گا
اور پھر غصہ کم کرنے کے لیے انٹر نیٹ پر آسمانی پریوں کی ویب سائٹ کھول کر ڈاؤن لوڈنگ میں مصروف ہو گیا۔
میں چاہتا ہوں اُسے چھو کے دیکھ لوں اک بار
یہ وہم ہے، وہ سراپا ادا بھی وہم نہ ہو
در حقیقت مجاہد کی زندگی کا اصلی عکس دیکھنا یا دکھانا خاصا مشکل ہے۔مجاہد کی شخصیت پر لکھی جانے والی ہر تحریر نامکمل ہو گی ، حتٰی کہ میرا پیش کردہ خاکہ بھی مجاہد کی جیتی جاگتی تو نہیں البتہ اُنگھتی تصویر قرار دیا جا سکتاہے۔
خدا کی تخلیق کردہ کائنات اور اس کی بے حدو حساب وسعتیں ہمارے تصورات کو مہمیز کرتی ہیں اور ہمیں شعور حاصل ہوتا جا رہا ہے، کہ انسان ہی اس کائنات کا مرکزو محورکہلائے جانے کا مستحق ہے۔میرا تو شروع سے یہ عقیدہ رہا کہ خدا کے جو نناوے صفاتی اسمائے مبارکہ ہیں وہ کائناتِ اکبر اور کائناتِ اصغر دونوں کو روشنی فراہم کر رہے ہیں اور ہر نوعِ بشر ان میں سے کسی نا کسی اسم کے تابع زندگی بسر کر رہا ہے۔لوگوں کی زندگیاں جبّار و قہار یا پھر رحمن و رحیم کے زیرِ اثر مختلف کیفیات سے دوچار ہیں۔اپنے اس خود ساختہ فلسفے کی روشنی میں جب مجاہد کا مشاہدہ کیا تو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ انوارِ صمدیت کے حصار میں ہے۔اللہ کا ایک صفاتی نام’ صمد‘ یعنی بے نیاز بھی ہے،جو لوگ اس اسم کے تابع ہوں اُن کا حال سب کو معلوم ہے۔ہمارے بیشتر صوفیائے کرام اس اسم کے عشق میں ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔مجاہد کے گرد جو نورانی ہالا بنتا دکھائی دیتا ہے وہ اسی صمد کا فیض ہے۔ میں نہایت وثوق اور ذ مہ داری کے ساتھ یہ کہنا چاہوں گا کہ میرا دوست تشویش ناک حد تک بے نیازی کی کیفیت میں ڈوبا ہوا ہے۔آٹھ اکتوبر دوہزارپانچ کے عالمی سانحے نے ہر چیز کو اجاڑ کر رکھ دیا،بالاکوٹ میں مجاہد کا دو منزلہ گھر چند ساعتوں میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔اس صابر و شاکر شخص نے اپنے گھر کے ملبے پر کھڑے ہو کر نمازِ عصر ادا کی،شکرانے کے اضافی نوافل پڑھے، دعا مانگی کہ اے خدایا!تیرا لاکھ لاکھ شکر کہ تُو نے مجھے،میری ضعیف والدہ اور بیوی بچوں کو سلامت رکھا،اسی دوران ایک تازہ قطعہ کہا ،نئی غزل کے شعر ہموار کیے اور اپنی تمام حسرتوں کو بے گور و کفن سیّد شاہ اسماعیل شہید کے شکستہ مزار کے پہلو میں رکھ کر لڑکھڑاتے جذبوں کے سہارے ایبٹ آباد کی جانب روانہ ہو گیا۔غزلیہ اشعار کچھ یوں تھے:
یہ خشک چشمہ،یہ ٹوٹے مکاں،یہ اُجڑا دیار
اِسی جگہ پہ کبھی گھونسلہ ہمارا تھا
نماز ِ عصر پڑھی تھی مکاں کے ملبے پر
تلاوتِ غم ا نساں میں دن گزارا تھا
شعر کہہ چکنے کے بعد اسے اندازہ ہواکہ ابھی تو میں نے صرف آپ بیتی کا بیانیہ محفوظ کیا ہے اگر جگ بیتی بیان نہ کی تو علمِ تاریخ اور اہلِ بالاکوٹ دونوں کے ساتھ ناانصافی ہو جائے گی،اس خیال کے آتے ہی شعری آمد کا سلسلہ پھر بحال ہو گیا،کیمیاگر نے جلدی جلدی تما م کیفیات کو چار مصرعوں میں سمیٹا اور ایک قطعہ موزوں کر کے آسمان کی طرف ایسے دیکھنے لگاجیسے اُوپر والے سے مزید مصرعوں کا طلبگار ہو،جب وہاں سے کوئی جواب نہ آیا تو انہی پر قناعت کرتے ہوئے نئے قطعے پر ’’ آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵‘‘ کا عنوان جمایا اور سگریٹ سلگا کر کسی گہری سوچ میں گم ہو گیا،شاید وہ اُسی قطعے کی جادوئی کشش میں اُلجھ گیا تھا۔ آپ بھی سُنیے:
پانی تھامیسّر ، نہ کفن تھا ، نہ دعائیں
بے طور ہر اِک پیر و جواں دفن کیا تھا
ملبے سے نکالے تھے کئی پھول کئی خواب
اَب یاد نہیں کس کو کہاں دفن کیا تھا
ہمارا یہ متوکل کیمیاگر جب ایبٹ آباد وارد ہوا تو ہر دوست کی زبان پر بس یہی کلمہ تھا کہ احمد حسین مجاہد بڑا بے نیازانسان ہے۔ اس جواں ہمت نے مصائب سے ہار نہیں مانی،مجاہد کی یک ورقی لغت میں ہار کا لفظ موجود نہیں،یہ سچ ہے کہ اس نے ہارنا نہیں سیکھا۔اگر جیت کے موقع پر بھی اس کے گلے میں ہار ڈالا جائے تو یہ کہتے ہوئے اتار کر پھینک دیتا ہے کہ میں جیتی ہوئی بازی ہارنا نہیں چاہتا۔مجاہد کے لیے زندگی کے آلام و مصائب مٹی کے کھلونے ہیں،یہ ان کھلونوں سے کھیلتا ہے اور توڑ دیتا ہے،اس کے قریبی رشتے دار تک حیران ہیں کہ سانحہ آٹھ اکتوبر نے مجاہد کو کیوں نہیں توڑا۔دوستو! میرا مجاہد اس لیے ناقابلِ شکست ہے کہ یہ آفاتِ سماوی کو آیاتِ سماوی سمجھ کر فوراً قبول کر لیتا ہے۔ مجاہد کا یہی رویہ ہم سب کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
میں نے اکثر قریبی احباب کی زبانی سنا کہ مجاہد کی زندگی توکل ہی کے سبب روشن ہے۔توکُل نے اس کی زندگی میں اتنے رنگ بھرے اور ایسے ایسے نادر کرشمے دکھائے جن کا تعلق کسی اور دنیا کے ساتھ ہے۔اگر وہ ذرا ہمت کر کے ان سب پُر اسرار حالات و واقعات کی جمع آوری کر لے اور کتابی صورت میں مرتب کر ڈالے تو صوفیانہ ادب میں گراں قدر اضافہ ہو گا۔توکُل نے اس کے مادّی جسم کو اتنا شفّاف اور لطیف بنا دیا ہے کہ اگر یہ بہتے پانی پر بھی چل رہا ہو تو حیران نہیں ہونا چاہیے۔ سانحہ آٹھ اکتوبر نے مجاہد سے جو مجاہدے کروائے اُن کے طفیل اس کے دنیاوی معاملات براہِ راست نظام ربوبیّت کے سپرد ہو گئے، اب یہ شخص عالمِ اسباب کا باسی ضرور ہے لیکن اس کی فکر کا اسپِ تازی روزانہ ہفت افلاک کی مفت سیر کرنے پر بھی قادر ہو چکا ہے۔ ان سب عنایات کے باوجود اس کا عجز حاوی نظر آتا ہے۔اگرچہ اسے خود ادراک بھی ہے جس کا کھلے دل سے اعتراف کرتا ہے۔
کس کے مخبر ہیں عناصر پسِ افلاک ہے کون
بھید یہ کھول دے،ایسا مرا ادراک ہے کون
مجاہد کا کچھ نا کچھ تعلق فیثا غورثی مکتبہ فکر سے ضرور بنتا ہے کیونکہ ایک خاص صنف کا ذکر کرتے ہوئے وہ ہمیشہ لفظوں سے زیادہ ہندسوں کا استعمال کرتا ہے،ابھی چند دن اُدھر کی بات ہے اُس نے مجھے بھی یہ کلیہ سکھایا کہ اگر اٹھارہ کے ہندسے کو دو سے ضرب دی جائے توناری کا حدود اربعہ نکل آتا ہے،اور ایسا نکلتا ہے کہ پھر انسان اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر گھر تک سے نکل یا نکال دیا جاتا ہے۔ اسی سادہ اُصول پرعمل کرتے ہوئے راجہ اندر کی سبھا میں اٹھارویں ہندسے کی بہتات نظر آتی ہے۔ہمارا گلفام اسی رنگین سبھا میں نیلم اور پکھراج جیسی حسین پریوں کے ساتھ معاملہ مندی میں مصروف دیکھا گیا ہے۔ہمارا راجہ لڑ کیوں کے حساب کتاب میں صرف جمع،تفریق اور ضرب کا قائل ہے،اگر یہ دریا دل انسان تقسیم کا بھی قائل ہوتا تو آج اس کے نزدیکی دوستوں کی تعداد ہزار سے ضرب کھا چکی ہوتی۔ مجاہد کے دستورِ عشق میں اٹھارہ کا ہندسہ اس قدر غالب ہے کہ بالآخر عطاء کو یہ کہنا پڑا:
’’ دنیا چاہے اِدھر سے اُدھر ہو جائے مجاہد کی یہ اٹھارویں ترمیم ہمیں منظور کرنا ہی پڑے گی۔‘‘
اس اعلان نے مجاہد کو خوشی سے نہال کر دیا،اور جب وہ بے طرح خوش ہو چکنے کے بعد بے حال ہواتو اُس نے ارشادِ عالیہ سے نوازتے ہوئے کہا اے میرے من موہن دوستو! یاد رکھنا:
’’ عورت جتنی غیر محتاط ہو گی،اتنی ہی زیادہ چاہے جانے کے لائق بھی ہو گی‘‘
فرمان جاری کرنے کے بعد امیر مینائی کے اس شعر کا ورد کرنا شروع کر دیا:
باغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی
بھیجنا ہیں ایک کم سِن کے لیے
مجاہد کہتا ہے کہ دنیاکی ہر چیز ہندسوں پر چلتی ہے،موبائل فون،کریڈٹ کارڈ،انعامی سکیمیں ، بجلی اور گیس کے میٹر، حتیٰ کہ سپیس ٹیکنالوجی کاپورا نظام ہندسی گورکھ دھندوں کا محتاج ہے۔سائنسی حوالے سے دیکھیں تو مادّے کی لمبائی،چوڑائی،موٹائی،گولائی اور سمٹائی کا اندراج ہندسوں میں ہی ممکن ہے۔غرض کاسمالوجی اور عشقالوجی پر سنجیدہ گفتگو کے دوران اگر ہندسوں کا استعمال کریں توہزار طرح کے مغالطوں
اور حماقتوں سے بچا جا سکتا ہے۔مجاہد کو مردانہ اصناف میں صرف اپنے دوست اچھے لگتے ہیں لیکن زنانہ اصناف میں اس کا مشرب صلحِ کُل ہے،ہندستانی ناریوں کا اتنا شیدائی کہ ہمہ وقت اس کے ہونٹوں پر حکیم الامت کا یہ مصرع رقص کرتا رہتا ہے:
ع سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
مجاہد کی اپنی شاعری اتنی اچھی ہے کہ اگر یہ ہندستان میں پیدا ہوتا تووہاں کی اگنی دیوی اپنی پرستش کے تمام حقوق اس ہزاروی دیوتا کے نام منتقل کر دیتی ۔مجاہد کا فنِ کیمیاگری اس کی شاعری میں نظر آتا ہے۔ایک دفعہ کا ذکرہے کہ میں نے اس کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے عالمِ وجد میں یہ جملہ لکھ دیا تھا :
(احمد حسین مجاہد کی شاعری پر اسرار رومان پرور فضاؤں کی ایسی نادر تمثالوں پر مشتمل ہے جہاں حقیقت،تخیل،بصیرت اور وجدان لمحہ بہ لمحہ باطنی کیفیات کی مصوری کرتے نظر آتے ہیں)
مجاہد کو میرا یہ جملہ پسند تو بہت آیا لیکن وہ جب ملتا یہی کہتاآخر اس فصیح و جمیل جملے کا مطلب ہے کیا ؟آج دل چاہتا ہے کہ اس جملے کے دقیق نکات کھول دیے جائیں تا کے مجھے بھی پتا چلے کہ عالمِ وجد و جنوں میں مجھ سے کیا سرزد ہو گیا تھا۔مجھے اس راہ کی مشکلات کااندازہ ہے اوریہ بھی جانتاہوں کہ’’ ایں سخن را فاش تر گفتن خطاست‘‘ ( یہ بات کھل کر کہنا خطا ہے،غالب کا مصرع)
اس جملے کی شرح کچھ یوں ہے کہ مجاہد کا تخیل اور وجدان دور دراز کے پہاڑوں اور جنگلوں سے وہ تمام نادر جڑی بوٹیاں اکٹھی کر لیتا ہے،جو سونا بنانے کے عمل میں کام آتی ہیں۔یہ کہنا بھی ٹھیک ہو گا کہ سمیری،یونانی،مصری،کلدانی اور ہندی دیوی دیوتا ہمارے مجاہد کو اس طرح کا تمام خام مال تبرکاً ہدیہ کر جاتے ہیں جن سے سونا بنایا جا سکتا ہے۔مجاہد کیمیاگر ہے،اس کے لفظ سونا اُگلتے ہیں،اس کا ہر شعر ۲۴ قیراط کا سونا ہے،اصلی،قیمتی اور وزن میں پورا۔
مجاہد کی رومان پرور شاعری دیومالائی اور اساطیری پردوں میں لپٹی ہوئی ہے۔جذبات کا خالص عطر جب نفسیاتی رمز و کنایہ کوتمثیل و استعارہ میں بیان کرتا ہے اور تخیل کی پرواز خیال افروز قوت کو جنم دیتی ہے تو اُس وقت مجاہد کی شاعری کائنات سے ہم کلام ہو نے کا شرف حاصل کرتی ہے۔اس کی شعری فضا دُھند میں لپٹے جنگل کی مانند ہے،جہاں کا ہر منظر روح پرور اور دل کش ہے۔میں احمد حسین مجاہد کی شخصیت کو اُس کی شاعری سے جدا کر کے دیکھ ہی نہیں سکتا،مجاہد کو جاننے اور سمجھنے کی لیے اگر اُس کی شاعری کا حوالہ نہ آئے تو مجھے مجاہد نظر آنا بند ہو جاتا ہے، سانحہ آٹھ اکتوبر کے بعد اُسے جس قوت نے زندہ رکھا وہ بلامبالغہ اس کی شاعری تھی۔
مجاہد کی شاعری اثر ،تاثراور تاثیر کی دولت سے مالا مال ہے۔یہ ہزارہ کا واحد شاعر ہے جو در زبانِ شعرپیش گوئی کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے شعری مجموعے ناسٹر و ڈیمس(Nostradamus)اور مایا کیلنڈر کی طرح خطرناک ثابت ہو چکے ہیں۔
کائنات کے ساتھ ہم کلام ہونے کا نتیجہ شعرا،صوفیا اور سائنس دانوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔مجاہدپہلے تو شاعری کے ذریعے پیش گوئی کرتا ہے،
پھر جس علاقے میں پیش گوئی نے گُل کھلانا ہو یہ حد درجہ ذمہ داری کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے وہاں سے بھاگ جاتا ہے، اور کسی دوسرے محفوظ شہر میں بیٹھ کر اپنی پیش کردہ پیش گوئی کے پورا ہونے کا انتظار کرتا ہے۔یہ غالباً ۱۹۹۴ء کے آس پاس کی بات ہے کہ مجاہد نے ایک آفاقی و سفّاکی شعر کہا:
زباں سمجھتا ہوں میں ٹوٹتے ستا روں کی ، یہ شہر مجھ کو اُجڑ تا دکھائی دیتا ہے
اس شعر نے آخرش بالاکوٹ کو اُجاڑ کرہی چھوڑا۔مجاہد بعد میں بہت پچھتایا کہ ایسا ایٹمی شعر کیوں لکھا!دوستوں نے کفارہ ادا کرنے کا مشورہ دیا،مجاہد فرماں بردار بچے کی طرح کفارے کی فکر میں غلطاں و پیچاں پھرتا رہا اور ایک دن اپنے گھر میں معتکف ہو کرکسی پراَسرار تصنیفی منصوبے میں گم ہو گیا اور پورے نوّے(۹۰) دنوں کے بعد جب دوستوں کی دنیا میں وارد ہو ا تو اس کے ہاتھ میں ’’صفحہء خاک‘‘ کا پہلا اڈیشن چمک رہا تھا(یہ کتاب سانحہ بالاکوٹ کی تہذیبی اور ثقافتی اقدار کی یادگار تاریخ پر مشتمل ہے اس نوعیت اور موضوع پر اُردو زبان میں شاید دوسری کتاب موجود نہیں)میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کفارے کو کتاب کی شکل میں ڈھلتے دیکھا ۔بہرحال نوے دنوں والا تکلف ہم سب کی سمجھ شریف سے باہر رہا،اچانک احمد عطا اللہ اپنے مخصوص شرارتی موڈ میں کہنے لگا’’ جے اگر اٹھارہ نوں پنج نال ضرب دو تے جواب نوے ہی بنڑدا ‘‘،اس منطقی جواب نے سب کو لاجواب کر دیااور ہم دوستوں کو کامل یقین ہو گیا کہ معاملہ چاہے سنجیدہ ہو یا غیر سنجیدہ ہمارا کیمیاگر اَٹھارہ کے پھیر سے باہر نہیں نکل سکتا، یا پھر نکلنا ہی نہیں چاہتا۔ عطا پھر بولا،’’اوئے اینوں نکلنے دی لوڑ ہی کیڑی اے‘‘ ۔مجاہد نے دوستوں کے ملفوظات بغورسنے اور کفارے کی مدح میں اپنا پراناشعر با آوازِ بلند پڑھ کر اِدھر اُدھر ٹہلنے لگا :
کوئی خواب میرے وجود میں کہیں ریزہ ریزہ بکھر گیا
مرے ہاتھ کچھ نہ لگا مگر،مرے سر سے بوجھ اتر گیا
ان دنوں ہمارا عظیم کیمیاگر ایبٹ آباد میں مقیم ہے،ہم نے اس پر پابندی عائد کر رکھی ہے کہ از راہِ مہربانی اس شہر کی شان میں کوئی شعر موزوں نہ کیا جائے،اور اگر شہروں کہ نسبت سے شاعری کرنا ایسا ہی ضروری ہے تو پھر صرف امریکی علاقوں پر شاعرانہ بمباری کی جائے، آخر اُس سُپرپاور پر بھی تو کوئی لکھنے لکھانے والا ہونا چاہیے۔
مجھے مجاہد کی دوستی اور شاعری پر ناز ہے۔یہ میری زندگی کی فخریہ پیش کش بھی ہے۔مجھے اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہمیشہ سے میرا قریبی دوست رہا ہے۔گو کہ مجاہد کا نام پہلی دفعہ پچاسی کی دہائی میں سنا او ر ۹۰ ۱۹ ء میں کہیں دیدارِ عام نصیب ہوا،لیکن باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵ ء کے فوراً بعد شروع ہو گیا تھا۔اس شخص کے ساتھ میری کوئی قدیمی نسبت ضرور نکلتی ہے۔کیونکہ بالاکوٹ کے ساتھ میرا جو اٹوٹ رشتہ ہے وہ صدیوں پرانا لگتا ہے،کیا یہ حیران کن بات نہیں کہ بالا کوٹ میں میرا کوئی عزیز رشتے دار وغیرہ آباد نہیں اور میں اس علاقے میں اَن گنت دفعہ جا چکا ہوں اور ہر بار یہاں آنے کے لیے تیار رہتا ہوں۔مجھے اس علاقے کی مٹی سے جو اپنائیت محسوس ہوتی ہے اُس کا بیان لفظوں میں ممکن نہیں۔میرے بچوں کو بھی اس علاقے سے عشق ہے۔سچ تو یہ ہے کہ بالاکوٹ ہمارا گھر ہے۔
مجاہد کی شخصیت ایسی جادوئی اور الف لیلوی دھنک جیسی ہے جس کے رنگوں کا شمار ممکن نہیں،غزل کا رنگ نمایاں ہے۔نظم گوئی پر توجہ کم ہونے کے باوجود چند بہترین نظمیں اس کی پہچان بن چکی ہیں۔مجاہد کی شعری مابعد الطبیعیات کاخمیر فلسفیانہ اور قلندارانہ تخیلات پر اُستوارہے ۔ اس کے ہاں ایک مخصوص فضا بنتی نظر آتی ہے جہاں رنگ،منظر،خوشبو،خیال،جذبہ،مطالعہ،مشاہدہ،حکمت، ادراک، خواب،فکر،تمثال اور لطافت یہ سب عناصر مل کر ایک نئی دنیا تخلیق کرتے ہیں۔مجاہد اپنی تخلیق کردہ دنیا کا اجنبی شہری ہے کیونکہ یہ بھی اس کی حتمی منزل نہیں ۔ہمارا کیمیاگر روز شام کو تخیل کی اُڑن طشتری پر سوارافلاک کی سیر پر روانہ ہو جاتا ہے۔راستے میں آنے والی حسین کہکشائیں اس کا خیر مقدم کرتی ہیں مگر وہ ان سب پر اَلودعی نظر ڈال کر آگے بڑھتا جاتا ہے۔ ایک دن اسی سیر کے دوران اچانک اس کے کان میں کسی نے سرگوشی والے انداز میں پوچھا تم کون ہو اور یہاں کس کام سے آئے ہو؟
مجاہد نے بڑے اطمینان کے سا تھ سرگوشی کی طرف دیکھا اور جواباً اپنا شعر اُسے سنایا:
بندھی ہے گردشِ افلاک میرے سانسوں سے
یہاں میں اپنے کسی کام سے ہیں آیا
آسمانی سرگوشی خوش ہو کر رنگوں کی صورت مجسم ہونے لگی،تجسیم کا عمل جب مکمل ہو چکا تو مجاہد نے دیکھا کہ اس جما ل انگیزسر گوشی کی عمر مبلغ اٹھارہ سال ہے،ابھی وہ مزید کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ رنگین سرگوشی نے خود کو اٹھارہ برس کی الھڑ دوشیزہ کا روپ دے ڈالا،مجاہد نے جیسے ہی اُس کا تازہ روپ مشاہدہ کیا اُس کا سانس اُوپر کا اُوپر اور نیچے کا سانس بھی اُوپر روانہ ہو گیا، وہ مست ہو کر ناچنے لگا ، نزدیکی زُہرہ ستارے سے مدھم سروں میں ’’دم مست قلندر مست مست ‘‘کی دھن بجنا شروع ہو گئی،مجاہد کی انتہائی خوشی کی وجہ یہ تھی کہ اُس کا آئیڈیل(ideal) اپنی تمام تر صفات کے ساتھ سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا ،اُس کی دعوتی مسکراہٹ اور مہنگاپتلا ریڈی میڈ ریشمی لباس مجاہد کو بد حواس کیئے جا رہا تھا۔ ناچار اپنی بچی کچی ہمت مجتمع کی اور اُسے گلے لگا نا چاہا ، مگر یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ فاصلہ سمٹ نہیں رہا،ایک کوشش اور کر دیکھی، پھر بھی اُس تک نہ پہنچ سکا۔ دوشیزہ نے قہقہ لگاتے ہوئے کہاکہ ’’ تمہارے اور میرے درمیان صرف اٹھارہ سیکنڈز کا نوری فاصلہ ہے جو دیکھنے میں بہت معمولی لگتا ہے لیکن طے کرنا چاہو گے تو ایک عمر نہیں بلکہ کئی عمریں درمیان پڑ جائیں گی اور فاصلہ سمٹ نہیں پائے گا۔‘‘مجاہد کو یہ بات بُری لگی،اُس نے دوشیزہ کو سمارٹ نظروں سے دیکھا اور کہکشانی پگڈنڈیوں کا شارٹ کٹ راستہ اختیار کرتے ہوئے واپس اپنے گھر آگیا۔مجاہد جانتاہے کہ اُس کا تخیل روشنی کی رفتار کو بآسانی مات کر سکتا ہے اور وہ نوری مدّت کی مہمات پلک جھپکنے میں طے کرنے پر قادرہے،مگراُس کی وضع داری آڑے آ گئی اور آسمانی سرگوشی کو اپنی اِن صفات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ اگر یہ سب کچھ اُس سرگوشی کو بتا دیتا تو وہ ’’خرگوشی‘‘ اِس کا ہاتھ تھام لیتی اور یوں دونوں ہنسی خوشی رہنے لگتے۔ میںآج تک اس اُلجھن کا شکار ہوں کہ مجاہد نے اپنا مثالیہ (ideal) حاصل کیوں نہیں کیا!ہاتھ آئی جنت کو اس آسانی سے چھوڑ دینا آسان نہیں ہوتا۔مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے مجاہد نے خود کو ایک جبری سفر پر روانہ کیا ہوا ہے،سفر ہی اُس کی اصل منزل ہے۔اسے جنگلوں، صحراؤں اور خلاؤں میں رہنا پسند ہے، اگر ہمارا مجاہد ناسا (NASA) کے کسی خلائی مشن کا حصہ بن کر خلا میں چلا جائے،اورجب اس کے باقی ساتھی مشن مکمل کرنے کے بعد واپس زمین پر آنے کی تیاری کر رہے ہوں گے تو عین اُسی لمحے میرا مجاہد اپنے خلائی راکٹ کی ٹینکی کسی قریبی CNG ا سٹیشن سے ’’ فُل‘‘ کرا کر نئی کہکشاؤں کو کھوجنے نکل جائے گا۔مجاہد اَن دیکھی دنیائیں تلاشنے کا شو قین ہے اور سفر پرجانے کیلئے ہر وقت تیار رہتاہے۔اس کے پاس وہ عرفانی وجدان موجود ہے جو اسے کائناتی وسعتوں میں لاتا لے جاتا رہتا ہے۔مجاہد کی حکمت آمیز شاعری میں کائناتی علائم و رموز کا ذکر اپنا ایک وسیع پس منظر رکھتا ہے،اس کی شاعری سے سرسری گزرنا مشکل ہے۔اس کا ہر شعر فکری قوتوں کو متحرک کرتا ہے۔مجاہد کی شاعری اور شخصیت اصل میں دونوں ایک ہیں۔
مجاہد کے سا تھ میرا جب بھی تفصیلی ملاقات کرنے کادل چاہے میں اُس کی شاعری پڑھنا شروع کر دیتا ہوں،اور اپنے ہر مطالعےکا آغاز اِن اشعار سے کرتا ہوں:
وقت کی
رفتار ہو جاؤں گا میں ۔۔۔ اتنا پُراَسرار ہو جاؤں گا میں
جیسے میرا خواب ہے یہ زندگی ۔۔۔ جیسے اَب بیدار ہو جاؤں گا میں
دیکھنا ڈھونڈے کی جب منزل مجھے ۔۔۔ راہ کی دیوار ہو جاؤں گا میں
جیسے میرا خواب ہے یہ زندگی ۔۔۔ جیسے اَب بیدار ہو جاؤں گا میں
دیکھنا ڈھونڈے کی جب منزل مجھے ۔۔۔ راہ کی دیوار ہو جاؤں گا میں
عامر سُہیل(شعبہ
اُردو)
ایبٹ آباد پبلک سکول،مانسہرہ روڈ،ایبٹ آباد(aamirsohailaps@hotmail.com)
ایبٹ آباد پبلک سکول،مانسہرہ روڈ،ایبٹ آباد(aamirsohailaps@hotmail.com)
No comments:
Post a Comment